کوئٹہ میں بلوچ لاپتہ افرادلواحقین کااحتجاجی کیمپ جاری

, ,

بلوچستان کے دارلحکومت کوئٹہ میں بلوچ جبری لاپتہ افراد اور شہداء کے لواحقین کااحتجاجی کیمپ جاری ہے جسے 4776 دن مکمل ہوگئے۔

سیاسی اور سماجی کارکنان علی بخش بگٹی، عبدالغنی سیلاچی و دیگر نے کیمپ آکر لواحقین سے اظہارِ یکجہتی کی۔

اس موقع پر وی بی ایم پی کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ نے کہا کہ ریاست کی خفیہ اداروں کے اہلکار سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کچھ لوگوں کو اعلیٰ منصب پہ بٹھا کر سیاسی ٹولز استعمال کرکے اپنے مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں، ریاستی مشینری متحرک طور پر ڈیتھ اسکواڈ کو سرگرم عمل رکھا ہوا ہے، جن میں بلوچ سیاسی، سماجی اور انسانی حقوق کے کارکنوں کی جبری گمشدگیوں اور ان کو قتل کا سلسلہ انہی لوگوں کے زریعے جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ ریاستی آلہ کار اپنے کام کو پلا کرنے اور سرکاری وعدہ وفا کے بدلے بلوچ فرزندوں کو بے دریغ قتل کرکے انکی لاشیں پھینک رہے ہیں یا اجتماعی قبروں میں دفن کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جبری گمشدگیوں اور تشدد سے ہمارے حوصلے پست نہیں ہوں گے اور ہماری پر امن جدوجہد حقوق کے حصول تک جاری رہے گا۔بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کو روکنے کیلئے ایک مؤثر آواز کی ضرورت ہے، اقوام متحدہ اور اقوام عالم کو پاکستانی ریاست کو جوابدہ کرنا چاہیے۔بلوچستان میں تشدد اب خرف عام ہو گیا ہے، ریاست تشدد سے اب خوف قائم نہیں کر سکتا ہے۔

Leave a Reply