کوئٹہ: بلوچ لاپتہ افراد لواحقین کے دھرنے کو23 دن مکمل، آج ریلی نکالی جائیگی

, ,

بلوچستان کے دارلحکومت کوئٹہ میں جبری لاپتہ افراد کے لواحقین کا گورنر اور وزیر اعلیٰ ہاؤس کے سامنے دھرنے کو 23 دن مکمل ہو گئے۔آج بی ایم سی کے مین گیٹ سے ایک احتجاجی ریلی نکالی جائیگی۔

دھرنے میں نیشنل پارٹی کے مرکزی ریسرچ سیکرٹری آغاگل، صوبائی جنرل سیکرٹری خیر بخش بلوچ، صوبائی ترجمان علی احمد لانگو نے آکر لاپتہ افراد کے لواحقین کے ساتھ اظہار یکجہتی کی۔

دھرنے میں بلوچستان سے جبری طور پر لاپتہ کیے گئے لواحقین کی کثیر تعداد موجود ہیں، کراچی سے جبری لاپتہ عبدالحمید زہری کی بیٹی سعیدہ بلوچ، حب چوکی سے جبری لاپتہ سفر بلوچ کے کزن شائستہ بلوچ دھرنے میں شریک رہے ہیں۔

لاپتہ افراد کے لواحقین نے آج بی ایم سی مین گیٹ کے سامنے ہونے والے ریلی میں شرکت کیلئے کوئٹہ کے تعلیمی اداروں اور مختلف مقامات پر پمفلٹنگ کی اور لوگوں کو اپیل کی کہ وہ کل ہونے والے ریلی میں اپنی شرکت یقینی بنائیں۔

دھرنے کے شرکا لواحقین انصاف کے منتظر ہیں، جن کے سادہ سے مطالبات ہیں کہ ان کو سنجیدگی سے سنا جائے اور انہیں انکے لاپتہ پیاروں کی زندگیوں کے بارے میں تسلی دی جائے۔

واضح رہے کہ احتجاجی دھرنے کو آج تئیس دن مکمل ہوئے ہیں لیکن اب تک انکے مطالبات کی منظوری میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔

لواحقین کے مطابق ان کا دھرنا اس وقت تک جاری رہے گا جب تک انہیں سے نا سنا جائے گا، اور یہ یقین دہانی نا کرائی جائے کہ انکے پیاروں کو جعلی مقابلوں میں قتل نہیں کیا جائے گا۔

Leave a Reply