شام میں ترکی کے فضائی حملے سے 17 افراد ہلاک

, ,

ترکی نے منگل کے روز شام کی سرحدی چوکیوں پر سلسلہ وار فضائی حملے کیے، جس میں کم از کم 17 افراد ہلاک ہوگئے۔ دمشق حکومت نے ترکی کو جوابی کارروائی کی دھمکی دی ہے۔

انسانی حقوق پر نگاہ رکھنے والی تنظیم ‘سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس’ نے اپنے ایک بیان میں بتایا کہ ”ترک سرحد کے قریب شامی حکومت کی متعدد فوجی چوکیوں پر ترکی فضائیہ نے حملے کیے جس میں سترہ جنگجو مارے گئے۔”

بیان میں تاہم یہ نہیں بتایا گیا ہے کہ ہلاک ہونے والے افراد کا تعلق حکومت یا کرد فورسز کس سے تھا۔

اس دوران سرکاری خبر رساں ایجنسی سانا (SANA) نے فوجی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ ترکی فضائیہ کے حملوں میں ہلاک ہونے والوں میں کم از کم تین شامی فوجی شامل تھے جب کہ چھ دیگر زخمی ہوگئے۔

سانا نے مزید کہا، ”ہمارے مسلح افواج کی نگرانی والے کسی بھی فوجی چوکی پر کسی بھی حملے کا تمام محاذوں پر براہ راست اور فوراً جواب دیا جائے گا۔”

یہ حملے کردوں کے قبضے والے قصبے کوبان کے قریب کیے گئے، جہاں ترک فورسز اور کرد قیادت والی شامی ڈیموکریٹک فورسز(ایس ڈی ایف) کے درمیان گزشتہ رات جھڑپیں ہوئی تھیں۔

ترک وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ کرد فورسز نے گزشتہ رات ترکی کے علاقے کے اندر بھی حملے کیے تھے جس میں کم ازکم ایک فوجی مارا گیا۔

وزارت دفاع کے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ، ”انقرہ نے شام کے اندر جوابی حملے کر کے تیرہ دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔ اس خطے میں آپریشن اب بھی جاری ہے۔”

خیال رہے کہ انقرہ کرد عسکریت پسندوں کو دہشت گرد قرار دیتا ہے۔ اس مسئلے پر 19جولائی کو ایران اور روس کے ساتھ ترکی کی ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ ہوئی تھی جو ناکام رہی۔ اس کے بعد ترکی نے شام کے کرد کنٹرول والے علاقوں پر اپنے حملے تیز کر دیے ہیں۔

کرد عسکریت پسندوں کے خلاف منگل کے روز ایک علیحدہ کارروائی کے دوران کرد کنٹروں والے حسکہ علاقے میں ترکی نے ڈرون حملہ کیا جس میں کم از کم چار افراد ہلاک ہوگئے۔

شامی کرد کی عملا ً فوج ایس ڈی ایف کا کہنا ہے کہ جولائی کے بعد سے ترکی کے حملوں میں اس کے کم از کم 13 اراکین ہلاک ہوچکے ہیں۔

ترکی شامی صدر بشار الاسد کی مخالفت کرتا ہے اور ان کو معزول کرنے کے لیے باغیوں کی حمایت کر رہا ہے۔ وہ پناہ گزینوں کے لیے اپنے دروازے بھی کھول رہا ہے۔

تاہم ترک وزیر خارجہ میلود چاوش اولو نے گزشتہ ہفتے شامی حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مفاہمت کی اپیل کی تھی۔ ان کے اس بیان کو اسد حکومت کے تئیں انقرہ کی دیرینہ مخاصمت میں نرمی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے لیکن اس نے شامی اپوزیشن اور باغی گروپوں کو ناراض کر دیا ہے۔

Leave a Reply