بلوچستان کسٹمز نے ڈیوٹی ٹیکسز کی مد میں ایک کھرب روپے جمع کرلیے چیف کلکٹر

, ,

کوئٹہ: بلوچستان کسٹمز نے ڈیوٹی ٹیکسز کی مد میں ایک کھرب روپے جمع کر کے تاریخ رقم کر دی، تفصیلات کے مطابق منگل کو چیف کلکٹر کسٹمز کلکٹریٹ بلوچستان آفس نے اپنے دونوں شعبوں اپریزمنٹ اور انفورسمنٹ (شعبہ انسداد اسمگلنگ) کوئٹہ اور گوادر کے مالی سال 2021-22ءکی سالانہ کارکردگی کی رپورٹ جاری کردی، رپورٹ کے مطابق موجودہ رقم 99.7 ارب روپے ہے جو کہ پچھلے مالی سال 2020-21ءسے 34.7 ارب روپے زائد ہے اور اسی طرح پچھلے مالی سال2020-21ءکے نسبت امسال 53 فیصد زائد رقم بنتی ہے،واضح رہے کہ پچھلے مالی سال کے دوران 65 ارب جمع کئے گئے تھے، رپورٹ کے مطابق ماڈل کسٹمز کلکٹریٹ کوئٹہ کے شعبہ اپریزمنٹ نے 18.2 ارب سے زائد جمع کیا ہے جبکہ ٹارگٹ 22.9ارب روپے کا تھاکسٹمز ڈیوٹی جمع کرنے میں بڑے مسائل درپیش آئے جن میں سیاسی، سرحدی اور دیگر حالات شامل تھے صوبے میں شدید انتظامی حالات اطراف کے ممالک میں تبدیلی سرکار اور کئی کئی ماہ سرحدوں کا بندش بھی شامل تھا، چمن پاک افغان سرحد کا اس وقت بند ہونا جب تازہ فریش فروٹ جن میں انار، انگور، سردا گرما، تربوز وغیرہ بڑے پیمانے پر امپورٹ کیا جاتی تھا اور بڑے پیمانے پر کسٹمز ڈیوٹی جمع کی جاتی تھی اور اسی طرح پاک ایران پر واقع بازارچہ جو کہ تفتان گیٹ کے بعد دوسرے بڑے کاروباری پوائنٹ کا شکل اختیار کر چکا تھا جہاں سے بڑے پیمانے پر ایرانی سرامک ٹائلز، سیمنٹ، کلیکنکرز، کجھور وغیرہ درآمد کیا جا تا تھا کو اچانک وفاقی حکومت کے آرڈر کے تحت جون 2021ءمیں بند کر دیا گیا جس کی وجہ سے اپریزمنٹ کوئٹہ کو کسٹمز ڈیوٹی میں اچھا خاصا نقصان ہوااس کے علاوہ دیگر وجوہات جن کی وجہ سے کسٹمز ڈیوٹی کی کلیکشن میں کمی دیکھنے میں آئی ان میں وہ تمام آئٹمز شامل ہیں جن کا مالی سال2020-21ءکے ڈیوٹی وٹیکسز کے جمع کرانے میں بڑا کردار تھاامسال ان آئٹمز کی امپورٹ میں اچھی خاصی کمی دیکھنے میں آئی۔ ڈرائی فروٹ میں پستہ، کاجو، بادام کشمش اسی طرح زیرہ، نائلون کی رسی، سبز چائے، کپڑا شیشے کا سامان وغیرہ شامل ہے جنکی وجہ سے کسٹمز ڈیوٹی میں کمی دیکھنے میں آئی اسی طرح دیگر وجوہات میں وائٹ سپرٹ، اور methylene Hexonic acid جیسے آئٹمز پر کسٹمز ڈیوٹی زیرو کرنا بھی تھا، رپورٹ کے مطابق ایل پی جی گیس جو ہمسایہ ملک سے امپورٹ کی جاتی ہے اور کسٹمز ڈیوٹی میں بڑا رول ادا کر تا پر ڈیوٹی زیرو ہونے کی وجہ سے ایک اور نقصان ہوااسی طرح اینٹی اسمگلنگ کے شعبے میں دونوں کلکٹریٹ کوئٹہ اور گوادر نے بڑی پیش رفت کی اور اربوں روپے سے زائد مالیت کا غیر ملکی سامان قبضے میں لیا، رپورٹ کے مطابق گوادر کسٹمز نے ریونیو کی مد میں 62ارب جمع کئے جن میں بڑے پیمانے پرپی او ایل کی درآمد شامل ہے جو کہ M/S. Byco نامی کمپنی نے کی اور اسی شپ بریکنگ اور زیادہ تعداد میں کوئلے کی امپورٹ شامل ہیںامسال دوسرے مسائل کے ساتھ ساتھ اسٹاف کا مسئلہ بھی رہا انتہائی قلیل افرادی قوت اور ریسوس کے مسائل بھی رہے تاہم اسٹاف کی کمی دور کرنے کے لئے نئے بھرتیاں کا عمل بھی جاری ہے ، رپورٹ کے مطابق سمگلنگ کی روک تھام کے لئے پولیس اور ایف سی اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کی معاونت بھی حاصل رہی اسی طرح بلوچستان کسٹمز نے تقریبا ً4 ارب روپے مالیت کی منشیات بھی قبضے میں لی ، رپورٹ کے مطابق بہترین کاروباری فضا کو بر قرار رکھنے اور مزید کاروبار مواقع پیدا کرنے کے پاک ایران بارڈر کمیٹی کا اجلاس اس سال ایران کے سرحدی شہر زاہدان میں منعقد ہوا جس میں پاکستان کی چیف کلکٹر کسٹمز بلوچستان محمد صادق اور دیگر افسران بمعہ دیگر منسلک محکموں نے شرکت کی، رپورٹ کے مطابق بلوچستان کسٹمز کلکٹریٹ کی جانب سے اتنی بڑے ہدف کو حاصل کرنا یقینا آسان کام نہ تھاکسٹمز ڈیوٹی کی جمع اوری میں کلکٹریٹ کے آفیسر ان اور تمام عملہ کے ساتھ ساتھ چمبرز اف کامرس اینڈ انڈسٹری کوئٹہ ، چمن اور گوادر کی انتھک محنت کاوشوں اور ٹیم ورک کا ثمرکا نتیجہ ہے اس طرح کوآرڈینیشن کے پالیسی کو اپنا تے ہوئے دوسروں محکموں کے ساتھ بہترین تعلقات رائج کئے جا چکے ہیں ٹرانسفر اور پوسٹنگ کے عمل کو بھی مناسب ایلئت قابلیت اور ڈیڈیکشن ک فارمولے پر رائج کیا جا چکا ہے، رپورٹ کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی صاف اور شفاف پالیسی کے تحت جلد از جلد اور کم وقت میں کلیرنس پر بھی عمل درآمد شروع کیا گیا اور ہر قسم کی شکایت کے ازالے کے لئے بھی اسٹاف موجود ہے فیڈرل بورڈ آف ریونیو اسلام آباد سینئر ممبر کسٹمز ( آپریشن ) طارق ہدا اور چیف کلکٹر کسٹمز بلوچستان محمد صادق کی جانب سے اپریزمنٹ کلکٹر راشد حبیب خان اور انفورسمنٹ کے موجودہ کلکٹر خالد حسین جمالی ، سابقہ کلکٹر ڈاکٹر فرید خان اور اسی طرح گودار کسٹمز کے سابقہ کلکٹر چودھری جاوید اور موجودہ کلکٹر رضا بلوچ سمیت کلکٹریٹ کوئٹہ کے تمام اسٹاف کو بہترین کارکردگی پر مبارکباد پیش کی بہترین کارکردگی پر فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی جانب متعلقہ آفسیرز کے لئے ایوارڈ کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔

Leave a Reply